بلڈ پریشر کی علامات اور علاج

بلڈ پریشر یا ہائی بلڈ پریشر (High Blood Pressure) کو “سیزڈرن پرچر” یا “ہائپرٹنشن” بھی کہا جاتا ہے۔ بلڈ پریشر کا مطلب ہوتا ہے کہ خون کی دباؤ عادی سطح سے زیادہ ہو جاتی ہے جو کہ صحت کے لئے خطرے کا باعث بن سکتی ہے، اور اگر اس کا کچھ خیال نہ رکھا جائے تو یہ دل کے مریضیوں، یکاعور موت، یا دوسری اہم اعضاء کی خرابیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

عموماً، بلڈ پریشر کو تین سطحوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

طبیعی: 120/80 ملیمیٹر مرکزی کوشش کے مربع انچ (مرکزی کوشش کے میٹر پر ملیمیٹر مربع کے برابر ہوتا ہے)

پری ہائیپرٹنشن (Prehypertension): 120-139/80-89 ملیمیٹر مرکزی کوشش کے مربع انچ

ہائی بلڈ پریشر (High Blood Pressure): 140/90 ملیمیٹر مرکزی کوشش کے مربع انچ یا اس سے زیادہ

علامات:
بلڈ پریشر کی شدت پر بنیاد رکھتے ہوئے اس کے مختلف علامات دیکھی جا سکتی ہیں۔ کچھ لوگوں کو کوئی خصوصی علامات محسوس نہیں ہوتیں، جبکہ دوسرے کو ایک سے زیادہ علامات نظر آتے ہیں۔ عموماً روایتی طور پر دیکھی جانے والی علامات مندرجہ ذیل ہیں:

سر درد

خفا

تھکاوٹ یا کمزوری

دماغی کاموں میں مشکل

دل کی دھڑکن کا تیز ہونا

چکر آنا یا بے ہوشی کا احساس

نظر کے آگے سیاہ چادر چھا جانا

پچھواڑے یا پاؤں کا پھول جانا

ایک یا دونوں ہاتھوں اور پاؤں کے انگوٹھے کے سر میں درد

علاج:
بلڈ پریشر کا علاج عموماً دو راستوں پر مبنی ہوتا ہے: غیر دوائیں اور دوائیں۔

غیر دوائیں علاج:

ورزش: روزانہ کم از کم 30 منٹ کی بجائے ماہر حرکت کی گئی ورزش کرنا مدد فراہم کرتی ہے۔

وزن کم کریں: وزن کم کرنا اگر زیادہ وزن ہو تو بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

خوراک کا کھیل: کم نمک، غذائیں جو چکر کو کم کریں، سبزیاں اور پھل کو شامل کرنا بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

تندرستی کا خیال رکھیں: استرس کم کرنا اور استراحت کرنا بلڈ پریشر کو کنٹرول میں مدد فراہم کرتا ہے۔

دوائیں:

  • بعض اوقات، بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لئے دوائیں مقرر کی جاتی ہیں۔ یہ دوائیں عم

وماً ڈاکٹر کی مشورے پر استعمال کی جاتی ہیں۔

بلڈ پریشر کا مراقبتی کام اہم ہے کیونکہ یہ دل کے مسائل اور دیگر خطرناک مریضیوں سے متعلق ہو سکتا ہے۔ بلڈ پریشر کی کمی اور کنٹرول کے لئے اپنے ڈاکٹر کی مشورہ کریں اور ان کی تمام رہنمائیوں کا پابندی سے پیروی کریں۔

بلڈ پریشر کی علامات اور علاج

 ہائی بلڈ پریشر کی علامات اور اس کا علاج

ہائی بلڈ پریشر کی علامات اور وارننگ سگنل کو معمولی اور شدید حالتوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

معمولی حالتوں میں، ہائی بلڈ پریشر کے عمومی علامات درج ذیل ہوتیں ہیں:

سر درد: خصوصاً صبح کو اٹھنے کے بعد سر درد کا احساس ہوتا ہے، جو کم اور زیادہ ہو سکتا ہے۔

خفا: بعض افراد کو خفا کا احساس ہوتا ہے۔

تھکاوٹ: عام طور پر تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے، جو اعصابی پریشانی، نہ کافی استراحت اور نہ ہی نمک کی زیادتی کی بنا پر ہو سکتا ہے۔

دل کی دھڑکن کا تیز ہونا: دل کی دھڑکن تیز محسوس ہوتی ہے۔

پچھواڑے یا پاؤں کا پھول جانا: پچھواڑے یا پاؤں کے انگوٹھے کے سر میں درد کا احساس ہوتا ہے۔

چکر آنا یا بے ہوشی کا احساس: شدید مراحل میں چکر آنا یا بے ہوشی کا احساس ہو سکتا ہے۔

ہاتھوں یا پاؤں کے سوزش: پچھواڑے، پاؤں یا ہاتھوں کے سوزش کا احساس ہو سکتا ہے۔

شدید حالتوں میں، ہائی بلڈ پریشر کے مزید خطرناک وارننگ سگنل ہوتے ہیں جن میں درج ذیل شامل ہو سکتے ہیں:

شدید سر درد: اگر سر درد انتہائی شدید ہو، تو یہ بلڈ پریشر کی خرابی کی علامت ہو سکتی ہے۔

ایک طرف دل کا درد: ایک طرف دل کا درد، بھاریپن، یا دھڑکن میں تیزی کا احساس، اچانک نظر کے سامنے اندھیرائی سیاہ چادر یا دوسری دل کے مسائل کے ساتھ جڑ سکتا ہے۔

دماغی کاموں میں خرابی: انتہائی خستگی، بھولنے کی مشکل، یا دماغی کاموں میں مشکلات کا احساس ہونا۔

بے ہوشی یا چکر: بے ہوشی یا چکر آنے کا احساس۔

نظر کے مسائل: نظر کے سامنے اندھیرائی یا اندھاپن، یا دوسرے نظریے مسائل کا احساس ہونا۔

یہ علامات اور وارننگ سگنل بلڈ پریشر کے شدت کے مطابق ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کو ہائی بلڈ پریشر کے بارے میں کوئی علامت محسوس ہو، تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں اور مشورہ لیں۔ بلڈ پریشر کے حالات میں اہمیت کے باعث، ڈاکٹر کی رہنمائی اور دوائیں صرف ان کے کہنے پر استعمال کریں۔

 ہائی بلڈ پریشر کی علامات اور اس کا علاج

ہائی بلڈ پریشر کی علامات اور وارننگ سگنل

ہائی بلڈ پریشر کی علامات اور وارننگ سگنل کو معمولی اور شدید حالتوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

معمولی حالتوں میں، ہائی بلڈ پریشر کے عمومی علامات درج ذیل ہوتیں ہیں:

سر درد: خصوصاً صبح کو اٹھنے کے بعد سر درد کا احساس ہوتا ہے، جو کم اور زیادہ ہو سکتا ہے۔

خفا: بعض افراد کو خفا کا احساس ہوتا ہے۔

تھکاوٹ: عام طور پر تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے، جو اعصابی پریشانی، نہ کافی استراحت اور نہ ہی نمک کی زیادتی کی بنا پر ہو سکتا ہے۔

دل کی دھڑکن کا تیز ہونا: دل کی دھڑکن تیز محسوس ہوتی ہے۔

پچھواڑے یا پاؤں کا پھول جانا: پچھواڑے یا پاؤں کے انگوٹھے کے سر میں درد کا احساس ہوتا ہے۔

چکر آنا یا بے ہوشی کا احساس: شدید مراحل میں چکر آنا یا بے ہوشی کا احساس ہو سکتا ہے۔

ہاتھوں یا پاؤں کے سوزش: پچھواڑے، پاؤں یا ہاتھوں کے سوزش کا احساس ہو سکتا ہے۔

شدید حالتوں میں، ہائی بلڈ پریشر کے مزید خطرناک وارننگ سگنل ہوتے ہیں جن میں درج ذیل شامل ہو سکتے ہیں:

شدید سر درد: اگر سر درد انتہائی شدید ہو، تو یہ بلڈ پریشر کی خرابی کی علامت ہو سکتی ہے۔

ایک طرف دل کا درد: ایک طرف دل کا درد، بھاریپن، یا دھڑکن میں تیزی کا احساس، اچانک نظر کے سامنے اندھیرائی سیاہ چادر یا دوسری دل کے مسائل کے ساتھ جڑ سکتا ہے۔

دماغی کاموں میں خرابی: انتہائی خستگی، بھولنے کی مشکل، یا دماغی کاموں میں مشکلات کا احساس ہونا۔

بے ہوشی یا چکر: بے ہوشی یا چکر آنے کا احساس۔

نظر کے مسائل: نظر کے سامنے اندھیرائی یا اندھاپن، یا دوسرے نظریے مسائل کا احساس ہونا۔

یہ علامات اور وارننگ سگنل بلڈ پریشر کے شدت کے مطابق ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کو ہائی بلڈ پریشر کے بارے میں کوئی علامت محسوس ہو، تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں اور مشورہ لیں۔ بلڈ پریشر کے حالات میں اہمیت کے باعث، ڈاکٹر کی رہنمائی اور دوائیں صرف ان کے کہنے پر استعمال کریں۔

ہائی بلڈ پریشر کی علامات اور وارننگ سگنل

لو بلڈ پریشر ‘کی علامات اور آسان قدرتی علاج

لو بلڈ پریشر (Low Blood Pressure) کو “ہائپوٹنشن” یا “ہائیپوٹنشن” بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ حالت ہے جب خون کی دباؤ عادی سطح سے کم ہو جاتی ہے۔ عموماً، لو بلڈ پریشر کی علامات آسانی سے پہچانی جاتی ہیں اور اس کا علاج بھی کافی آسان ہوتا ہے۔

لو بلڈ پریشر کی علامات:
لو بلڈ پریشر کے مختلف افراد کو مختلف علامات محسوس ہوتی ہیں، ان میں سے کچھ عمومی علامات درج ذیل ہیں:

چکر آنا: اکثر لو بلڈ پریشر کے مریضوں کو چکر آتا ہے، خصوصاً جلد سے اچھلنے یا بیڑھنے پر۔

بے ہوشی کا احساس: اگر لو بلڈ پریشر بہت کم ہو، تو بے ہوشی کا احساس ہو سکتا ہے۔

تھکاوٹ: ضعف اور تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے، کمزوری محسوس ہوتی ہے۔

تنگدستی: سانس لینے میں مشکل ہونا یا دماغی کاموں میں خرابی کا احساس۔

سر درد: سر درد کی شکایت ہو سکتی ہے۔

دل کی دھڑکن کم ہونا: دل کی دھڑکن کم ہونا یا دھڑکن کے عمومی تعداد میں کمی کا احساس ہو سکتا ہے۔

لو بلڈ پریشر کا آسان قدرتی علاج:
لو بلڈ پریشر کے لئے درج ذیل آسان قدرتی علاج اپنا کر اپنے بلڈ پریشر کو بہتر کیا جا سکتا ہے:

پانی کی شدت سے استعمال: روزانہ کم از کم آٹھ گلاس پانی پینا لو بلڈ پریشر کو مدد فراہم کرتا ہے۔

نمک کی مقدار بڑھائیں: نمک کی مقدار میں اضافہ کرنا لو بلڈ پریشر کو بڑھا سکتا ہے، خصوصاً جب بہت زیادہ پسینہ آرہا ہو یا چکر آ رہا ہو۔

مزید تھیلی میں نمک: جب آپ کو لو بلڈ پریشر کی علامات محسوس ہوں، تو تھیلی میں نمک رکھیں اور چھتے پر اسے بوئیں۔ نمک کے خراب ہونے کا احساس ہو تو دوسری نمک والی تھیلی بھی استعمال کریں۔

میتھا پانی: میتھا پانی (شکر والا پانی) لو بلڈ پریشر کو بڑھانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

خربوزے کھائیں: خربوزے میں موجود پانی اور معدنیات لو بلڈ پریشر کو بہتر کرتے ہیں۔

یہ قدرتی علاج صرف لو بلڈ پریشر کی علامات محسوس ہونے پر اس کے کچھ خطرات سے باز آنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کو لو بلڈ پریشر کی علامات ہیں، تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور ان کی ہدایت کے مطابق علاج کریں۔

لو بلڈ پریشر ‘کی علامات اور آسان قدرتی علاج
لو بلڈ پریشر ‘کی علامات اور آسان قدرتی علاج

کولیسٹرول شوگر بلڈ پریشر کا شرطیہ علاج

کولیسٹرول، شوگر، اور بلڈ پریشر کے مشترکہ شرائط کے علاج کا تجویزات کرنے کے لئے اپنے معالج یا ڈاکٹر سے رجوع کرنا اہم ہے۔ یہ تینوں مشترکہ حالتیں ایک دوسرے کو متأثر کر سکتی ہیں اور ڈاکٹر آپ کی صحتی تاریخ، طبی معائنے، اور ٹیسٹ نتائج کے بعد اپنے مشورے دے سکتے ہیں۔

عموماً، کولیسٹرول، شوگر، اور بلڈ پریشر کے شرطیہ علاج کا ذکر کئی علاجی اقدامات پر مبنی ہوتا ہے جن میں درج ذیل شامل ہو سکتا ہے:

  1. غیر دوائیں تدابیر:

صحیح خوراک: صحیح اور متعادل خوراک کا خیال رکھیں، کم چربی، کم نمک، اور کم شکر کی خوراک اہم ہے۔

ورزش: روزانہ کم از کم 30 منٹ تازگی کی ورزش، جیسے چلنا، دوڑنا، سوئمنگ، یوگا وغیرہ اپنی روزانہ کارروائیوں میں شامل کریں۔

وزن کم کریں: اگر آپ کا وزن زیادہ ہے، تو اسے کم کرنے کی کوشش کریں کیونکہ وزن کم کرنا بلڈ پریشر، کولیسٹرول، اور شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

نومولودی رہیں: اپنی نومولودی کا خیال رکھیں اور کافی ریلیکس کریں۔

دوائیں:

بعض مریضوں کے لئے، غیر دوائیں اقدامات کام نہیں کرتی ہیں یا نافع نہیں ہوتیں، ان کے لئے ڈاکٹر کی مشورے پر مخصوص دوائیں تجویز کی جاتی ہیں۔ ان دوائوں میں کچھ شامل ہوسکتی ہیں:

کولیسٹرول کے لئے سٹیٹنز (Statins)، فائبریٹس (Fibrates)، اور نیسٹٹوزا (Niacin)۔

شوگر کے لئے انسولین، میٹ فارمن، سلفونیل یوریا (Sulfonylureas)، تھیازولینڈیون (Thiazolidinediones)، وغیرہ۔

بلڈ پریشر کے لئے ACE انہائبٹرز (Angiotensin-Converting Enzyme Inhibitors)، ARBs (Angiotensin II Receptor Blockers)، کیلسیم چیننگ بلاکرز (Calcium Channel Blockers)، ٹھائی آئنے والی دوائیں (Diuretics)، بیٹا بلاکرز (Beta Blockers)، مرکزی عمل کرنے والی دوائیں (Central Alpha Agonists)۔

یہ دوائیں اور دوسرے معتبر علاجی اقدامات، ڈاکٹر کی رہنمائی اور تجویزات کے مطابق استعمال کرنے سے کولیسٹرول، شوگر، اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنا ممکن ہوتا ہے۔ اپنے ڈاکٹر کی مشورے کے بغیر، کسی بھی دوائیں استعمال کرنا خودسر اور خطرناک ہوسکتا ہے۔

کولیسٹرول شوگر بلڈ پریشر کا شرطیہ علاج

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top