شوگر کا دیسی علاج

شوگر (یا دیابیٹس) کا دیسی علاج مختلف قسم کے شوگر کے لئے مختلف ہوتا ہے اور یہ بہتر ہوتا ہے کہ آپ کا علاج اپنے ڈاکٹر کی مشورے سے کریں، تاکہ وہ آپ کی حالت کو درست طریقے سے تشخیص دے سکیں اور آپ کو مناسب علاج دیں۔

دیابیٹس کے علاج کی کچھ عام ترین طریقے درج ذیل ہیں:

غذائی انتخاب:

شوگر کے مریضوں کو اپنی غذائی عادات پر پوری طرح سے نظر رکھنا چاہئے. ان کو کھانے کے وقتوں کو منظم رکھنا چاہئے اور شوگر کے اثرات کم کرنے والی خوراکوں کی پیروی کرنی چاہئے.

کم کاربوہائیڈریٹ اور بلند پروٹین خوراک کی پیروی کرنی چاہئے.

شوگر کے مریضوں کو چینوں اور شرابوں کو محدود کرنا چاہئے.

روزمرہ ورزش:

روزانہ ورزش کرنا اہم ہوتا ہے، جیسے چلنا، دوڑنا، سوئمنگ، یوگا، یا دوسری جسمانی مشقیں۔ ورزش کرنے سے انسولین کی ضروریت کم ہوتی ہے اور شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے.

دوائیں:

بعض افراد کو شوگر کو کنٹرول کرنے کے لئے دوائیں کی ضرورت ہوتی ہے. ڈاکٹر ان کو مناسب دوائیں مختلف اقسام کی شوگر کے لئے مختار کرتے ہیں جیسے کہ مصنوعی انسولین یا دوسری انسولین کی معدنی قوت کی دوائیں.

معالجے کی تحقیقات:

کچھ مریضوں کو دوسری معالجے کی تحقیقات بھی کرانی پڑتی ہیں، جیسے کہ انسولین پمپ، گلوکوز مانیٹرنگ، یا دوائیں جو خود کار طور پر انسولین جاری کرتی ہیں.

یہاں تک کہ آپ کے علاج کا مخصوص منصوبہ آپ کی شوگر کی قسم اور سطح پر مبنی ہوتا ہے، اور آپ کے ڈاکٹر کی مشورے پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ انتہائی اہم ہے کہ آپ اپنے ڈاکٹر کی ہدایتوں کا پورا پالن کریں تاکہ شوگر کو کنٹرول کرنے اور صحت کو بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔

شوگر بڑھنے کی علامات 

شوگر (یا دیابیٹس) کی بڑھتی ہوئی حالت کی علامات کچھ عام طور پر درج ذیل ہوتی ہیں:

زیادہ پیاس اور پیشاب:

اگر آپ کو اچانک زیادہ پیاس لگنے لگے اور آپ کو زیادہ بار بار پیشاب آنے لگے تو یہ ایک علامت ہو سکتی ہے کہ آپ کی شوگر بڑھ رہی ہے.

کمزوری اور ضعف:

دیابیٹس کی بنا پر گلوکوز کو خون میں منتقل کرنے والا انسولین غائب ہوتا ہے، جس کی بنا پر جسم کی خوشبو ورزی کی کمی ہوتی ہے اور شخص کمزور اور ضعیف محسوس کرتا ہے.

بلوں میں شوگر کی براہ راست پیمائی:

بعض لوگوں کو دیابیٹس کی وجہ سے بلوں میں شوگر کی براہ راست پیمائی (Fasting Blood Sugar Test) کے دوران اشتداد کا اندازہ چلتا ہے.

جلن اور خشکی:

اگر آپ کو بے وجہ جلن یا خشکی کی شکایت ہو، تو اس کی وجہ شوگر کی بڑھتی ہوئی حالت بھی ہو سکتی ہے.

چشموں کی مشکلات:

شوگر کی بڑھتی ہوئی حالت کی وجہ سے آنکھوں کی مشکلات ہوتی ہیں، جیسے کہ بلریز کا طیلسم (Blurred Vision) یا آنکھوں کی خرابی.

زخموں کی دیر سے بھرنا:

دیابیٹس کی بنا پر جلد کی قدرتی جذب کم ہوتی ہے، اور زخموں کو دیر سے بھرنے میں وقت لگتا ہے۔

کمی:

شوگر کی بڑھتی ہوئی حالت کی وجہ سے کمی کی شکایت ہوتی ہے، جو اکثر پیشاب کی بنا پر ہوتی ہے.

یہ علامات ہوتی ہیں جو دیابیٹس کی بڑھتی ہوئی حالت کی وجہ سے آ سکتی ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر شخص کو یہ ساری علامات ہوں، اور کچھ لوگ دیابیٹس کے بغیر بھی ان علامات کو محسوس کرتے ہیں۔

آپ کو کسی بھی طبی مسئلے کی صورت میں اپنے ڈاکٹر کی مشورہ لینا چاہئے تاکہ درست تشخیص اور علاج حاصل کیا جا سکے۔

شوگر سے جان چھڑانے کا واحد علاج کیا ہے؟

شوگر (یا دیابیٹس) ایک مزمل امراض ہے جو عموماً دوائیں، غذائی انتخاب، اور صحیح زندگی شے کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ شوگر کو مکمل طور پر جان چھڑانے کا کوئی واحد علاج نہیں ہے۔ اسے منظم طریقے سے کنٹرول کر کے آپ اس کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں اور اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

دیابیٹس کے کنٹرول کے لئے درج ذیل کام کرنا اہم ہوتا ہے:

غذائی انتخاب:

صحیح غذائی انتخاب کریں اور کم کاربوہائیڈریٹ اور بلند پروٹین خوراکوں کی پیروی کریں۔

اپنے ڈاکٹر یا ڈائیٹیشن کی مشورے پر بریک پر کھائیں اور کھانے کے وقتوں کو منظم رکھیں۔

شکر کو کم کرنے کے لئے قدرتی شوگر جگہ مصنوعی شوگر کی استعمال کم کریں۔

روزمرہ ورزش:

روزانہ ورزش کریں، جیسے چلنا، دوڑنا، سوئمنگ، یوگا، یا دوسری جسمانی مشقیں۔ ورزش سے شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے اور جسم کی انسولین کی ضروریت کم ہوتی ہے۔

دوائیں:

اگر آپ کا ڈاکٹر دوائیں تجویز کرتے ہیں، تو ان کو منظم طریقے سے استعمال کریں اور ڈاکٹر کی ہدایات کا پورا پالن کریں۔

منظم معائنے:

منظم طریقے سے اپنے ڈاکٹر کے پاس جائیں اور خون شوگر کی پیمائش کرائیں تاکہ شوگر کی حالت کو مونیٹر کریں اور تجویزات کو تجدید کریں۔

روزمرہ صحت کی دیکھ بھال:

معاونت کی پریکٹس کریں، تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کریں، اور ان کو قابو میں رکھنے کے لئے صحیح نیند حاصل کریں۔

شوگر کو کنٹرول کرنے کے علاوہ، اپنے ڈاکٹر کی مشورے پر عمل کریں اور ان کی ہدایات کا پورا پالن کریں۔ یہ تدابیر شوگر کی حالت کو بہتر بنانے اور اس کے اثرات کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں، لیکن اس کو پوری طرح سے جان چھڑانے کا کوئی واحد علاج نہیں ہوتا۔

ذیابیطس کے نتیجے میں لاحق ہونے والی بیماریاں

شوگر (یا دیابیٹس) کے نتائج میں لاحق ہونے والی بیماریاں مندرجہ ذیل ہوتی ہیں:

دل کی بیماریاں (Cardiovascular Diseases):

دیابیٹس شوگر کے نتیجے میں دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جیسے کہ دل کی بناؤ کی بات، دل کی دھڑکن کی بیماری، اور اینجائنا (Angina)۔

کنٹرول نہ ہونے والا ہائپر ٹنشن (Uncontrolled Hypertension):

دیابیٹس کے مریضوں میں کنٹرول نہ ہونے والا ہائپر ٹنشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، جو دل کی بیماریوں کا اور دیگر صحت کی مسائل کا باعث بنتا ہے۔

نیفروپیتھی (Nephropathy):

دیابیٹس کے مریضوں کو نیفروپیتھی یعنی گردے کی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔ یہ بیماری گردوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور آخر کار کرونک کِدنی (Chronic Kidney Disease) کا سبب بنتی ہے.

ریٹائنوپیتھی (Retinopathy):

دیابیٹک ریٹائنوپیتھی، جو آنکھوں کی مخصوص بیماری ہے، شوگر کے نتائج میں آ سکتی ہے اور آنکھوں کو نقصان پہنچاتی ہے جو اکثر بصر کی خرابی کا باعث بنتی ہے.

عصبی بیماریاں (Neuropathy):

شوگر کے نتائج میں عصبوں کی بیماریاں (نوروپیتھی) بھی پیدا ہوتی ہیں جو عام طور پر ہاتھوں اور پاؤں کی سوزش، درد، اور حس کی کمی کا باعث بنتی ہیں.

جلد کی بیماریاں (Skin Conditions):

دیابیٹس کے مریضوں کو جلد کی مشکلات بھی ہوتی ہیں جیسے کہ خشکی، جلن، اور جلد کی انفیکشنات۔

اور بیماریاں:

شوگر کے نتائج میں دوسری صحت کی مسائل بھی پیدا ہوتی ہیں جیسے کہ آسٹیئوآرتھرائٹس (عظام کی بیماری)، زخموں کا دیر سے بھرنا، اور جلد کی انفیکشنات.

شوگر کو کنٹرول کرنے اور اپنی صحت کو بہتر بنانے کے لئے اہم ہے کہ آپ اپنے ڈاکٹر کی مشورے پر عمل کریں اور منظم طریقے سے دوائیں استعمال کریں، صحیح غذائی انتخاب کریں، روزمرہ ورزش کریں، اور منظم طریقے سے خون شوگر کی پیمائش کرائیں۔ ان تدابیر سے دیابیٹس کے نتائج کو کم کیا جا سکتا ہے اور آپ کی صحت کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔


ذیابیطس میں مناسب اور نامناسب غذائیں

ذیابیطس کے مریضوں کے لئے مناسب اور نامناسب غذائیں کی پیروی کرنا بہت اہم ہوتا ہے تاکہ ان کی شوگر کو کنٹرول کیا جا سکے اور صحت کو بہتر بنایا جا سکے۔

مناسب غذائیں:

سبزیاں اور پھل (Vegetables and Fruits): سبزیاں اور پھل شوگر کے مریضوں کے لئے بہترین غذائیں ہیں، لیکن پھل کی شرح کو محدود رکھنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ ان میں قدرتی شوگر ہوتا ہے۔

پروٹین (Proteins): ماں پھلی، چکن، مچھلی، دالیں، اور پروٹین کی دوسری مختلف مصادر شامل کریں۔

کامیابی کے ساتھ کاربوہائیڈریٹس (Carbohydrates with a Low Glycemic Index): کاربوہائیڈریٹس کا انتخاب کرتے وقت کم گلائیمک انڈیکس (Glycemic Index) والے کاربوہائیڈریٹس کو ترجیح دیں کیونکہ یہ شوگر کو تیزی سے نہیں بڑھاتے اور لو گلائیمک انڈیکس والے کاربوہائیڈریٹس کی تصنیف میں شامل ہوتے ہیں۔

فائبر (Fiber): فائبر کے مصرعین کا استعمال کریں کیونکہ یہ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور ہضمی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔

پیشاب کی نیکل (Hydration): پیشاب کی نیکل کو برقرار رکھیں اور پیشاب میں شوگر کی مقدار کو کم کرنے کیلئے پیا جاتا ہے۔

نامناسب غذائیں:

شوگری مصرعین (Sugary Foods and Drinks): شوگری مصرعین کو پرہیز کریں، جیسے کہ میٹھے، کیک، کیکس، اور شربتیں۔

سیدھے شربت (Sugary Beverages): شوگر کے مریضوں کو سیدھے شربتوں کا استعمال نہیں کرنا چاہئے، جیسے کہ کولا، لیموں شربت، اور سوڈا۔

سفید چینی (White Sugar): سفید چینی کی استعمال کو کم کریں یا اس کو کھانے کی مکمل مخصوصیات میں نہ شامل کریں۔

پراپریسڈ فوڈز (Processed Foods): پراپریسڈ فوڈز جیسے کہ فرائیڈ چپس، برگر، اور فرائیڈ چکن کو ترک کریں، کیونکہ ان میں زیادہ مقدار میں چربی اور کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں۔

زیادہ نمک (Excessive Salt): زیادہ نمک کا استعمال کرنا بھی مضر ہوتا ہے اور کنٹرول کرنے کی مشکلات پیدا کرتا ہے۔

شراب (Alcohol): شراب کو بھی محدود رکھیں یا ترک کریں، کیونکہ شراب شوگر کو بڑھا سکتی ہے اور مواد کنٹرول کرنے میں مشکلات پیدا کرتی ہے۔

یہاں دھیان رہے کہ ہر شخص کی شوگر کی معمولیت مختلف ہوتی ہے اور ی

ہ ممکن ہے کہ کسی کو کچھ غذائیں برداشت ہوں اور دوسرے کو نہیں۔ آپ کی ڈاکٹر یا ڈائیٹیشن کی مشورے پر عمل کریں تاکہ آپ کے لئے مناسب غذائی انتخاب کر سکیں جو آپ کی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top