شوگر کنٹرول کرنے کا طریقہ

شوگر کنٹرول کرنے کا مطلب ہے کہ آپ اپنے خون میں شوگر کی مقدار کو معمولی حدوں پر رکھیں تاکہ آپ کے جسم کی صحتیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے شوگر کے مضر اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ شوگر کنٹرول کرنے کے لئے مندرجہ ذیل طریقے اہم ہیں:

طبی مشورہ: اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور ان کی مشورہ لیں۔ وہ آپ کو بہترین طریقہ بتائیں گے جو آپ کے صحت کی شرطوں کے مطابق ہوگا۔

منظم چیک اپ: اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق، منظم طور پر خود کو چیک کرتے رہیں۔ یہ شامل کرتا ہے: خون شوگر کی معمولی تنظیم کے لئے ٹیسٹ، ہائپوگلائسیمیا (خون میں شوگر کی کمی) کی تصدیق، اور کبھی کبھار ہموگلوبن (HB A1C) ٹیسٹ جو آپ کے شوگر کنٹرول کی معلومات فراہم کرتا ہے۔

منظم دوا کا استعمال: اگر آپ کو ڈاکٹر نے دوائیں مختص کی ہیں تو، ان کو منظم طور پر استعمال کریں اور ان کے استعمال کے اشارات اور منصوبہ بندی کے مطابق عمل کریں۔

صحیح خوراک: صحیح غذائی روایات اپنانا اہم ہے۔ کم گلوکوز (گلوکوز کی مقدار) والے خوراک اور معتدل اشیاء کا استعمال کرنا شوگر کنٹرول کے لئے فائدے‌مند ہے۔

محدود مشق: مشق کرنا اور ہفتے میں کم از کم 150 منٹ تک مختلف ورزشوں جیسے چلنا، دوڑنا، سوئمنگ، یوگا وغیرہ کو شامل کرنا بہتر ہوتا ہے۔

تنباکو اور نشے کی عادات سے اجتناب: تنباکو پینا اور دوسرے نشے کی عادات کا ترک کرنا بہتری کے راستے میں مدد کر سکتا ہے۔

تنظیمی چیک اپس: منظم چیک اپس پر ڈاکٹر سے رابطہ برقرار رکھیں اور ان کے ساتھ کمیونیکیٹ کریں کہ آپ کا شوگر کنٹرول کیسے حدثر ہورہا ہے۔

یہ طریقے آپ کے شوگر کنٹرول کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اپنے ڈاکٹر کے راہنمائی کے بغیر کبھی بھی کسی بھی دوائیں استعمال نہ کریں اور ہر صورت میڈیکل پروفیشنل کی مشورہ کا احترام کریں۔

شوگر کنٹرول کرنے کا طریقہ

شوگر لو ہونے کی علامات

شوگر کے مریض ہونے کے علامات عام طور پر درج ذیل ہوتی ہیں:

زیادہ پیاس: شوگر کے مریضوں کو عموماً زیادہ پیاس محسوس ہوتی ہے۔ اگر آپ کو اچانک بہت زیادہ پیاس محسوس ہورہی ہے اور آپ کو اکثر بار پانی پینے کی خواہش ہوتی ہے تو یہ ایک علامت ہو سکتی ہے۔

زیادہ بھوک: دائمی طور پر بھوک لگی رہنا بھی شوگر کے مریضوں کی علامت ہوتی ہے۔ اگر آپ کو بھوک کی احساس بڑھی ہوئی ہے اور آپ کو کھانے کے بعد بھی فوراً بھوک لگتی ہے تو یہ ایک علامت ہو سکتی ہے۔

وزن کمی: شوگر کے مریضوں کو وزن کم ہونے کی شکایت ہوتی ہے بغیر کسی وجہ کے۔

تھکاوٹ اور کمزوری: شوگر کے مریضوں کو عموماً تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے اور وہ جلدی طور پر تھک جاتے ہیں۔

جلدی مسائل: شوگر کے مریضوں کو جلد کی مسائل ہوسکتے ہیں جیسے کہ خشک جلد، خارش، اور آکڑے ہوئے جلد کی شکایت۔

بچوں میں کمی: بچوں کو بھی شوگر ہوسکتی ہے اور ان میں شوگر کے مریض ہونے کی علامتیں بھی ہوسکتی ہیں جیسے کہ زیادہ پیاس، زیادہ بھوک، تھکاوٹ اور کمزوری، اور جلدی مسائل۔

نظریں کمزور ہونا: اگر آپ کی نظریں کمزور ہو رہی ہیں اور آپ کو دور کی چیزوں کو دیکھنے میں مشکل ہوتی ہے تو یہ ایک شوگر کے مریض ہونے کی علامت ہو سکتی ہے۔

یہ علامات افراد کے مختلف معماروں میں مختلف طریقہ سے ظاہر ہو سکتی ہیں اور ان کی شدت بھی مختلف ہوسکتی ہے۔ اگر آپ کو ان علامات میں سے کسی ایک یا ان سے زیادہ علامات کا احساس ہو تو فوراً اپنے ڈاکٹر کی مشورہ کریں۔ شوگر کی صورت میں تشخیص اور علاج کے لئے منظم چیک اپس کرانا بہتر ہوتا ہے۔

شوگر لو ہونے کی علامات

شوگر کی اقسام

شوگر کی اقسام مختلف ہوتی ہیں جو عموماً دو بنیادی قسموں میں تقسیم کی جاتی ہیں:

  1. شکری (Diabetes Mellitus):

Type 1 Diabetes (ٹائپ 1 ڈائبیٹیس): یہ اقسام ڈائبیٹیس کا کم تر معمولی اقسام میں سے ایک ہے۔ یہ عموماً بچوں اور نوجوانوں میں پائی جاتی ہے، لیکن کسی بھی عمر میں پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کی وجہ ٹائپ 1 ڈائبیٹیس کے اثرات سے متعلق جوں کہ انسانی جسم کی اپنی خودی کار جگہ پیدا کرنے والے انسولین بنانے کی خاصیت کا ختم ہو جانا ہے۔ اس میں مریض کو روزانہ انسولین کی اشیاء دینی ہوتی ہیں تاکہ خون میں شوگر کو معمولی حدوں پر رکھا جا سکے۔

Type 2 Diabetes (ٹائپ 2 ڈائبیٹیس): یہ ڈائبیٹیس کا زیادہ معمولی اور عام اقسام میں سے ایک ہے۔ عموماً بڑھتی ہوئی عمر والے لوگوں میں دیکھا جاتا ہے، لیکن آجکل جوانی میں بھی ٹائپ 2 ڈائبیٹیس کا شکار ہونا ممکن ہے۔ اس میں بھی خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے، لیکن جسم انسولین کو موثر طور پر استعمال نہیں کر سکتا۔ اس کا علاج غذائی روایات، ورزش، دوائیں، اور وزن کمی میں مشتمل ہوتا ہے۔

  1. شکری کے دوسرے اقسام:

Gestational Diabetes (جیسٹیشنل ڈائبیٹیس): حمل کے دوران خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جانے سے پیدا ہوتا ہے۔ عموماً حمل کے آخری چھ مہینوں میں دیکھا جاتا ہے اور عموماً پیدا ہونے کے بعد خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود، یہ ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔

Secondary Diabetes (ثانوی ڈائبیٹیس): دیگر موجودہ بیماریوں یا دوائیں کے استعمال کی بنا پر ڈائبیٹیس پیدا ہو سکتی ہے۔ اسے ثانوی ڈائبیٹیس کہا جاتا ہے۔

شوگر کے مختلف اقسام کا علاج اور مدیرانہ انتظام مختلف ہوتا ہے، اور مریض کی خصوصیات اور معمار کے مطابق ڈاکٹر منتخب کرتا ہے کہ وہ شخص کو کونسا علاج کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

شوگر کی اقسام

مرد میں شوگر کی علامات

مردوں میں شوگر کے علامات عموماً عورتوں میں پائی جانے والی علامات سے مختلف ہوتی ہیں۔ شوگر کے مردوں میں ہونے والی علامات مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں:

زیادہ پیاس: مردوں کو زیادہ پیاس محسوس ہوتی ہے اور انہیں بہت زیادہ پانی پینے کی خواہش ہوتی ہے۔

زیادہ بھوک: مردوں کو بھوک بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے اور وہ کھانے کے بعد بھی جلدی بھوک محسوس کرتے ہیں۔

وزن کمی: شوگر کے مردوں کو وزن کم ہونے کی شکایت ہوتی ہے بغیر کسی وجہ کے۔

تھکاوٹ اور کمزوری: مردوں کو عموماً تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے اور وہ جلدی طور پر تھک جاتے ہیں۔

تنباکو اور نشے کی عادات کی تاثیرات: تنباکو استعمال اور دوسرے نشے کی عادات، مردوں کے شوگر کو متاثر کر سکتے ہیں۔

نظریں کمزور ہونا: مردوں کو بھی نظریں کمزور ہو سکتی ہیں اور وہ دور کی چیزوں کو دیکھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔

جلدی مسائل: مردوں کو بھی جلد کی مسائل ہوسکتی ہیں جیسے خشک جلد، خارش، اور آکڑے ہوئے جلد کی شکایت۔

مردوں میں شوگر کی علامات عموماً عورتوں کی علامات کی مماثل ہوتی ہیں، لیکن ان کی شدت اور طرزِ ظاہریت مختلف ہوسکتی ہے۔ اگر آپ کو ان علامات میں سے کسی بھی علامت کا احساس ہو تو فوراً اپنے ڈاکٹر کی مشورہ کریں۔ شوگر کی تشخیص اور علاج کے لئے منظم چیک اپس کرانا بہتر ہوتا ہے۔ مردانہ طاقت بڑھانے کا نسخہ

مرد میں شوگر کی علامات

شوگر کا نارمل لیول

شوگر کا نارمل لیول، خون میں قلمی شکر (گلوکوز) کی معمولی حد کو ظاہر کرتا ہے جو صحتمند افراد کے لئے معمولی ہوتا ہے۔ شوگر کے لیول کو مائیکرو مولار پر لاپیٹا جاتا ہے جو “ملی مولار” یا “مغزا مولار” کہلاتا ہے۔

عموماً، شوگر کے نارمل لیول کو نمایاں (Fasting Blood Sugar) اور خون کی نمونے کے بعد (Postprandial Blood Sugar) دونوں صورتوں میں چیک کیا جاتا ہے۔

نمایاں (Fasting Blood Sugar):

نمایاں یا روزانہ پیٹ کھال کے بعد نمونے کے حاصل کردہ خون کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

عموماً، نارمل نمایاں شوگر کا لیول 70-100 ملی گرام فی ڈی سی سی (mg/dL) ہوتا ہے۔

خون کی نمونے کے بعد (Postprandial Blood Sugar):

ایک خوراک کھانے کے بعد 2 گھنٹے کے بعد یا دوسرے صورتوں میں بھی کھانے کے بعد خون کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

عموماً، نارمل خون کی نمونے کے بعد شوگر کا لیول کم سے کم 140 ملی گرام فی ڈی سی سی (mg/dL) سے کم ہوتا ہے۔

شوگر کا نارمل لیول

شوگر کے نارمل لیول مختلف طبی مشورے اور اداروں کے قوانین اور معیارات کے مطابق مختلف ہوسکتے ہیں۔ بعض ممالک میں، شوگر کے لیول کو ملی مولار (mg/dL) میں نمایاں کرتے ہیں، جبکہ دوسرے ممالک میں ملی مولار کے واحدے مختلف ہوتے ہیں، مثلاً ملی مولار فی لٹر (mmol/L)۔

شوگر کے نارمل لیول کو درست جوان ڈاکٹر کی مشورے اور عورت کی خصوصیات کے مطابق معلوم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر کسی کو شوگر کے لیول میں ایک سے زیادہ مرتبہ غلطی نظر آتی ہے یا اگر شوگر کے لیول معمولی حد سے زیادہ ہو تو اس کو ڈاکٹر کی مشورے کے بعد معائنہ کرانا چاہئے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top