castor in urdu

Castor کو اردو میں “ارنڈی” کہتے ہیں۔ ارنڈی کا تیل (castor oil) اندرونی اور بیرونی استعمال کے لئے مشہور ہے۔ یہ تیل ارنڈی کے بیجوں سے حاصل کیا جاتا ہے اور جلد، بال، اور دوائیں بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ ارنڈی کے تیل کا صاف کردہ اور بے رنگ روغن جلد کی مساج کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کو خوبصورت بنانے والی اشیاء اور کوسمیٹکس کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ارنڈی کا تیل مختلف طبی اور ہومیوپیتھک دوائیں بنانے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ارنڈی کے بیج اور ان کا تیل بھارت میں اور دوسرے مختلف خطوں میں اہم تجارتی مال بنے ہوئے ہیں۔

castor in urdu

castor oil plant

کاسٹر آئل پلانٹ کو اردو میں “ارنڈی کا پودا” (Arandi ka poda) کہا جاتا ہے۔ یہ پودا ارنڈی کے بیجوں سے حاصل کیا جانے والا ہوتا ہے اور اس کا تیل (کاسٹر آئل) مختلف طبی، صنعتی اور تجارتی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

ارنڈی کا پودا بڑا اور قدرتی طور پر درخت نما ہوتا ہے۔ اس کے پتے بڑے ہوتے ہیں جو 5 سے 12 انچ لمبے ہوتے ہیں۔ اس کے پھول آسمانی رنگ کے ہوتے ہیں اور پھولوں کی لمبائی تقریباً 1 انچ ہوتی ہے۔ پھولوں کے بعد ارنڈی کے بیج بنتے ہیں جو اندرونی تیل (کاسٹر آئل) کی کھال کے اندر پائے جاتے ہیں۔

ارنڈی کا پودا گرم خزاں اور گرم تھرمیوں میں پیدا ہوتا ہے اور عموماً اندھرا بھارت، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، فلپائنز، اور تھائی لینڈ جیسے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ ارنڈی کے بیجوں سے حاصل کیا جانے والا کاسٹر آئل، صنعتی مصنوعات، کوسمیٹکس، دوائیں، صابن، اور مختلف دیگر محصولات کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ، ارنڈی کے پھول، بیج اور تیل کو طبی مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے بیجوں میں موجود کئیرٹنوئڈز کا تیار میں استعمال ہوتا ہے جو دوائیں بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ارنڈی کا تیل آئیندہ کے استعمال کے لئے بھی بہت اہم ہوتا ہے۔

castor oil plant

castor oil for hair

کاسٹر آئل (Castor oil) بالوں کی دیکھ بھال کے لئے ایک مشہور طبیعی علاج ہے۔ یہ کاسٹر پلانٹ (Ricinus communis) کے بیجوں سے حاصل کیا جاتا ہے اور سدھارنے سے ہزاروں سال سے بالوں کی نشوونما، بالوں کی صحت کو بہتر بنانے اور مختلف بالوں سے متعلق مسائل کے حل کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ نیچے کچھ کاسٹر آئل کے بالوں کے لئے فوائد اور استعمالات دیئے گئے ہیں:

بالوں کی نشوونما: کاسٹر آئل میں رائسنولیک ایسڈ شامل ہوتا ہے، جو اس میں پایے جانے والے علامات کو کم کرنے کی بنا پر بالوں کی نشوونما کو مدد فراہم کرتا ہے۔ کاسٹر آئل کو سکلپ میں مساج کرنے سے خون کی بہاؤ میں بہتری آتی ہے، بالوں کے بیجوں کو غذائیت فراہم کرتا ہے اور بالوں کی نشوونما کو متحرک کرتا ہے۔

بالوں کی حالت سوان: کاسٹر آئل میں فیٹی ایسڈز اور وٹامن E شامل ہوتے ہیں، جو اسے ایک ممتاز طبیعی بالوں کا حالت سوان بناتے ہیں۔ یہ بالوں کو مرطوب اور نرم بناتا ہے، جس سے بالوں کو آسانی سے سنوارا جا سکتا ہے اور فرِز کو کم کیا جا سکتا ہے۔

سپلٹ اینڈز کا علاج: کاسٹر آئل کو بالوں کے اختتاموں پر لگانے سے سپلٹ اینڈز کو بند کرنا ممکن ہوتا ہے اور مزید نقصان سے بچایا جا سکتا ہے، جس سے صحیح بالوں کی حالت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

خشک سکلپ اور ڈینڈرف کا علاج: کاسٹر آئل کی مضبوط اینٹی مائیکروبیل خصوصیات خشک سکلپ کے انفیکشن سے نمٹنے میں مدد فراہم کرتی ہیں اور ڈینڈرف کو کم کرتی ہیں۔ اس کا روزانہ استعمال سکلپ کی خشکی کو کم کر سکتا ہے اور خارش ہونے کی صورت میں آرام فراہم کر سکتا ہے۔

گھنے اور مضبوط بال: کاسٹر آئل بالوں کی چھالوں کو خوراک دیتا ہے، جو انہیں گھنا اور مضبوط بناتا ہے۔ یہ بالوں کے ٹوٹنے کو روکتا ہے اور بالوں کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔

سکلپ کی صحت: کاسٹر آئل کو سکلپ میں مساج کرنا سکلپ کی صحت کو بہتر بناتا ہے اور خشک جگہوں کو مرطوب کرتا ہے۔

کاسٹر آئل کا استعمال کرنے کے لئے:

سکلپ مساج: کاسٹر آئل کو ہلکا سا گرم کر کے اپنے انگوٹھوں سے سکلپ میں مساج کریں۔ اسے کم از کم 30 منٹ ت

ک رکھیں یا بہتر نتائج کے لئے ایک رات بھر رکھیں اور پھر ہلکا سا شیمپو سے دھوئیں۔

بالوں کا ماسک: کاسٹر آئل کو دوسرے بالوں کے لئے مفید تیلوں جیسے ناریل کے تیل یا زیتون کے تیل کے ساتھ ملا کر بالوں میں لگائیں۔ اسے 30 منٹ سے ایک گھنٹے تک لگا رہنے دیں پھر دھوئیں۔

بالوں کے اختتاموں کا علاج: چھوٹی مقدار کاسٹر آئل کو بالوں کے اختتاموں پر لگائیں تاکہ انہیں مضبوط بنایا جا سکے اور نقصان سے بچایا جا سکے۔

کاسٹر آئل کا استعمال کرنے سے پہلے ایک چھوٹے سے حصے پر ٹیسٹ کرنا اہم ہے تاکہ کسی بھی حساسیت یا الرجی کا اندازہ لگایا جاسکے۔ اس کے علاوہ، کاسٹر آئل ہر شخص کے لئے مفید نہیں ہوتا ہے، لہٰذا اگر آپ کو کسی مخصوص بالوں سے متعلق مسئلے ہیں تو بہتر ہوتا ہے کہ آپ ڈرمیٹالوجسٹ یا ٹرائیکولوجسٹ سے مشورہ کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top